ابنا: امریکہ سے شائع ہونے والے اخبار Christian Science Monitor نے اپنی تازہ ترین اشاعت میں ایٹمی معاملے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے واضح بیانات نیز ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کے حرام سمجھنے کو ان مذاکرات کے سلسلے میں ایک ایسی اہم حمایت قرار دیا ہے جس کے باعث ان مذاکرات کے دوران ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اتفاق راۓ پیدا ہونے کا امکان بڑھ گيا ہے۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور تیئیس مئي کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہوگا۔ جب کہ ان مذاکرات کا پہلا دور چودہ اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں ہوا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران دینی اور انسانی اصولوں کی بنیاد پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کو حرام جانتا ہے۔ اس کے علاوہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے جو مسلسل معائنے کۓ ہیں ان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران اپنی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے کے اطیمنان کے ساتھ ایٹمی معاملے میں بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون اور اشتراک عمل کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
دریں اثناء بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات اور ایران اور یورپی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے سلسلے میں بہتر ماحول پیدا ہونےکے بعد امریکہ نے خطے میں بعض اشتعال آمیز اقدامات انجام دیۓ ہیں جن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لۓ کوشاں ہے۔
بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ اعتماد سازی پر مبنی مذاکرات ، ایک دوسرے کے ساتھ کۓ جانے والے وعدوں نیز دھمکیوں اور پابندیوں سے متعلق ایران کے مواقف واضح اور روشن ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری اور ایران کے اعلی مذاکرات کار سعید جلیلی نے استنبول دو اجلاس کے اختتام پر اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف پر تاکید کرتے ہوۓ کہا تھا کہ جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ ملت ایران کو این پی ٹی معاہدے کی بنیاد پر اپنے جائز حقوق ملنے چاہئيں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے بھی آسٹریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے دوران اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ مذاکرات نۓ دائرہ کار کے تحت ہونے چاہئيں یورینیئم کی افزدوگی سمیت ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں کہا کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کے قوانین کے مطابق ہیں۔ اور تہران تمام مسائل کے بارے میں غیر مشروط طورپر اور پوری سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لۓ پوری طرح سے آمادہ ہے۔.......
/169